انا نے کاٹ دیئے اس پہ انحصار کے پاؤں
انا نے کاٹ دیئے اس پہ انحصار کے پاؤں
تو اپنے پاؤں لگے مجھ کو کوہسار کے پاؤں
ترے مکاں کا تقدس عزیز تھا اتنا
میں آ رہا ہوں گلی سے پرے اتار کے پاؤں
ابھی سے خشک نہ ہو آبشار چشم فراق
ابھی تو ہم کو دھلانا ہیں اپنے یار کے پاؤں
بلندیوں پہ چٹانوں کو روندتا پانی
ندی میں گر کے پکڑ لے گا کوہسار کے پاؤں
یہ سوچ کر کہ نہ قرطاس سے اتر جائے
ادھورے چھوڑ دئے میں نے شاہکار کے پاؤں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.