وصل سے دل شاد کر یا قتل کا سامان کر
وصل سے دل شاد کر یا قتل کا سامان کر
کر گزر بے مہر آیا ہو جو دل میں ٹھان کر
دشمنی کر دوستی کر ظلم کر احسان کر
جو تجھے منظور ہو اے عاشقوں کی جان کر
قول دے کر مجھ سے کہتا ہے کہ دھوکا ہو گیا
دوستی بھی کی ستمگر نے تو دشمن جان کر
ان کے آنے کی امیدیں تو گئی گزری ہوئیں
اے اجل تو ہی گھڑی بھر کے لئے احسان کر
آپ ملیے دشمنوں سے خیر دیکھا جائے گا
آج ہم بھی آئے ہیں کچھ اپنے دل میں ٹھان کر
کوچۂ لیلیٰ میں رہنا چاہئے تھا قیس کو
کیا ملا اس عقل کے دشمن کو جنگل چھان کر
اے قمرؔ دنیا ہی کیا کرتی ہے مجھ سے بے رخی
اہل دنیا بھی نہیں ملتے مسافر جان کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.