Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وصل سے دل شاد کر یا قتل کا سامان کر

قمر بدایونی

وصل سے دل شاد کر یا قتل کا سامان کر

قمر بدایونی

MORE BYقمر بدایونی

    وصل سے دل شاد کر یا قتل کا سامان کر

    کر گزر بے مہر آیا ہو جو دل میں ٹھان کر

    دشمنی کر دوستی کر ظلم کر احسان کر

    جو تجھے منظور ہو اے عاشقوں کی جان کر

    قول دے کر مجھ سے کہتا ہے کہ دھوکا ہو گیا

    دوستی بھی کی ستمگر نے تو دشمن جان کر

    ان کے آنے کی امیدیں تو گئی گزری ہوئیں

    اے اجل تو ہی گھڑی بھر کے لئے احسان کر

    آپ ملیے دشمنوں سے خیر دیکھا جائے گا

    آج ہم بھی آئے ہیں کچھ اپنے دل میں ٹھان کر

    کوچۂ لیلیٰ میں رہنا چاہئے تھا قیس کو

    کیا ملا اس عقل کے دشمن کو جنگل چھان کر

    اے قمرؔ دنیا ہی کیا کرتی ہے مجھ سے بے رخی

    اہل دنیا بھی نہیں ملتے مسافر جان کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے