سائے کو دیوار سے منسوب ہونا چاہئے
سائے کو دیوار سے منسوب ہونا چاہئے
ہجر میں بھی وصل کا اسلوب ہونا چاہئے
ریت پر لکھے ہوئے حرف تمنا کی طرح
مٹتے مٹتے بھی بہت مرغوب ہونا چاہیے
آئنہ در آئنہ خود کو پرکھتے تھک گئے
اب کسی صورت ہمیں منسوب ہونا چاہیے
ہو گئے سب رابطے جب ایک صورت میں اسیر
پھر تو ہر منظر کو ہی محبوب ہونا چاہیے
دیکھتا ہے کون ادھر پندار کی لرزش اسدؔ
بس لبوں پر لہجۂ محبوب ہونا چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.