سوچتا ہوں کہ تضادات میں کیا رکھا ہے
سوچتا ہوں کہ تضادات میں کیا رکھا ہے
آتے جاتے ہوئے دن رات میں کیا رکھا ہے
جو بھی آتا ہے مرے دل میں وہ کہہ دیتا ہوں
میں تو پاگل ہوں مری بات میں کیا رکھا ہے
چند لمحوں کی رفاقت نہیں درکار مجھے
اس ادھوری سی ملاقات میں کیا رکھا ہے
ہم نے دنیا کو بہت غور سے دیکھا ہے مگر
ان بدلتے ہوئے حالات میں کیا رکھا ہے
جو مقدر میں نہیں اس کی تمنا کیسی
ایسی بے کار شکایات میں کیا رکھا ہے
خاک چھانی ہے زمانے کی بڑی مدت تک
اب کسی بھی نئی سوغات میں کیا رکھا ہے
اپنی ہی ذات سے الجھا ہوا پھرتا ہے عظیمؔ
سچ تو یہ ہے کہ مری ذات میں کیا رکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.