Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سوچتا ہوں کہ تضادات میں کیا رکھا ہے

سالم عظیم

سوچتا ہوں کہ تضادات میں کیا رکھا ہے

سالم عظیم

MORE BYسالم عظیم

    سوچتا ہوں کہ تضادات میں کیا رکھا ہے

    آتے جاتے ہوئے دن رات میں کیا رکھا ہے

    جو بھی آتا ہے مرے دل میں وہ کہہ دیتا ہوں

    میں تو پاگل ہوں مری بات میں کیا رکھا ہے

    چند لمحوں کی رفاقت نہیں درکار مجھے

    اس ادھوری سی ملاقات میں کیا رکھا ہے

    ہم نے دنیا کو بہت غور سے دیکھا ہے مگر

    ان بدلتے ہوئے حالات میں کیا رکھا ہے

    جو مقدر میں نہیں اس کی تمنا کیسی

    ایسی بے کار شکایات میں کیا رکھا ہے

    خاک چھانی ہے زمانے کی بڑی مدت تک

    اب کسی بھی نئی سوغات میں کیا رکھا ہے

    اپنی ہی ذات سے الجھا ہوا پھرتا ہے عظیمؔ

    سچ تو یہ ہے کہ مری ذات میں کیا رکھا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے