راس کب آتی ہے خوشیوں کی فراوانی مجھے
راس کب آتی ہے خوشیوں کی فراوانی مجھے
پھر ڈبو جائے گی بحر غم کی طغیانی مجھے
کب تلک بے سود دیکھوں گا کتاب ماہ و سال
کب تلک کرنی ہے یوں اوراق گردانی مجھے
واپسی کا راستہ بھولا ہوں دنیا دیکھ کر
دور لے آئی ہے مجھ سے میری حیرانی مجھے
دیکھتے ہی دیکھتے میں بک گیا ہوں ہاتھوں ہاتھ
کر گئی نایاب کتنا میری ارزانی مجھے
لکھ رہا ہوں خود ہی مرگ ذات کا نوحہ نسیمؔ
وقت نے سونپی ہے میری مرثیہ خوانی مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.