کب کہاں بولا کہاں پر چپ رہا
کب کہاں بولا کہاں پر چپ رہا
یاد ہے اتنا میں اکثر چپ رہا
کہتا تھا ہمدرد و ہمدم خود کو جو
پڑ رہے تھے مجھ پہ پتھر چپ رہا
وقت ہی ہر بات کا دے گا جواب
اس لئے میں سب کی سن کر چپ رہا
اس میں دریاؤں کا تھا سب کچھ مگر
بن گیا جب وہ سمندر چپ رہا
لفظ و معنی سے ہے چھوٹا رابطہ
جو گیا ہے اپنے اندر چپ رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.