Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

غم کا تنکا گرا وقت کی نہر میں

افضل پرویز

غم کا تنکا گرا وقت کی نہر میں

افضل پرویز

MORE BYافضل پرویز

    غم کا تنکا گرا وقت کی نہر میں

    کوئی مچھلی نہ تڑپی کسی لہر میں

    کوئی کھلتا سا چہرہ نہیں دہر میں

    جس کو دیکھو بجھا ہے کسی زہر میں

    آج تاکا ہے صیاد کو برق نے

    کتنی رحمت ہے پوشیدہ اس قہر میں

    کوئی بادل نہیں کوئی سایہ نہیں

    جل رہا ہوں کڑاکے کی دوپہر میں

    اتنے بیگانے لوگ آ بسے ہیں یہاں

    اجنبی ہو گیا ہوں بھرے شہر میں

    جس کے ساحل پہ گلگشت کرتا ہوں میں

    پھول میرے بہیں گے اسی نہر میں

    میرے ہمسائے ہیں شیخ اور محتسب

    گھر خرابہ ہے بستے ہوئے شہر میں

    دین و دل مانگ لو جسم و جاں مانگ لو

    ہم فقیر آ گئے ہیں بڑی لہر میں

    دشت میں رہزنوں نے نہ چھیڑا جنہیں

    لٹ گئے وہ مسافر ترے شہر میں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے