غم کا تنکا گرا وقت کی نہر میں
غم کا تنکا گرا وقت کی نہر میں
کوئی مچھلی نہ تڑپی کسی لہر میں
کوئی کھلتا سا چہرہ نہیں دہر میں
جس کو دیکھو بجھا ہے کسی زہر میں
آج تاکا ہے صیاد کو برق نے
کتنی رحمت ہے پوشیدہ اس قہر میں
کوئی بادل نہیں کوئی سایہ نہیں
جل رہا ہوں کڑاکے کی دوپہر میں
اتنے بیگانے لوگ آ بسے ہیں یہاں
اجنبی ہو گیا ہوں بھرے شہر میں
جس کے ساحل پہ گلگشت کرتا ہوں میں
پھول میرے بہیں گے اسی نہر میں
میرے ہمسائے ہیں شیخ اور محتسب
گھر خرابہ ہے بستے ہوئے شہر میں
دین و دل مانگ لو جسم و جاں مانگ لو
ہم فقیر آ گئے ہیں بڑی لہر میں
دشت میں رہزنوں نے نہ چھیڑا جنہیں
لٹ گئے وہ مسافر ترے شہر میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.