آپ کی سن کر غزل میں شادماں ہونے لگا
آپ کی سن کر غزل میں شادماں ہونے لگا
یہ غزل میں نے کہی ہے یہ گماں ہونے لگا
وقت ہی نے سی دیے تھے ہونٹ میرے کیا کروں
میرا لکھا غیر کے لب سے بیاں ہونے لگا
سرفرازی کا وہ اندازہ کرے بھی کس طرح
جو زمیں پر رہتے رہتے آسماں ہونے لگا
جس کو رستے کا پتا ہے اور نہ منزل کا سراغ
آدمی ایسا بھی میر کارواں ہونے لگا
ایک چنگاری نے وہ آفت مچائی کچھ نہ پوچھ
چند لمحوں میں مکاں جل کر دھواں ہونے لگا
وقف کر دی میں نے اپنی زندگی جس کے لیے
وہ مرا ہو کر بھی اب میرا کہاں ہونے لگا
داستان زندگی کس کو سناؤں میں حسنؔ
اب بڑھاپے میں بدن میرا کماں ہونے لگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.