حسن کا اب کوئی وقار نہیں
حسن کا اب کوئی وقار نہیں
بے سبب عشق سوگوار نہیں
حسرت دید کیا کرے کوئی
لذت وصل پائے دار نہیں
رنگ پر اپنے تو نہ اترا گل
کوئی موسم سدا بہار نہیں
مجھ کو پہچانتا ہے ہر پتھر
کوئے جاناں ہے ریگزار نہیں
کیا ستم ہے کہ قیس تنہا ہے
اور صحرا بھی غم گسار نہیں
حادثہ ہے یہ بزم الفت میں
ایک بھی شخص دل فگار نہیں
میکدے بند کر دیئے جائیں
چشم میکش میں اب خمار نہیں
گرچہ پیوند ہیں ہزار مگر
میری پوشاک داغدار نہیں
میری خاموشیوں کی چیخوں سے
کس کا دل اب بھی اشک بار نہیں
بال کی کھال مت اتار اکرمؔ
کوئی بھی بات بے غبار نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.