یہ کیسا شہر ہے جس میں ہوا بھی گم ہو جائے
یہ کیسا شہر ہے جس میں ہوا بھی گم ہو جائے
اگر میں چیخ پڑوں تو صدا بھی گم ہو جائے
نہ کوئی سایہ نہ آواز کا نشاں کوئی
یہاں تو آدمی کا نقش پا بھی گم ہو جائے
میں جس گلی میں کبھی نور بانٹتا تھا وہاں
اگر چراغ جلاؤں ضیا بھی گم ہو جائے
خموشی اوڑھ کے ٹھہرے ہیں یوں در و دیوار
کہ لفظ بولیں تو سب ماجرا بھی گم ہو جائے
تعلقات کی اس دھند میں ہوں گم ساغرؔ
تلاش خود کو کروں تو خدا بھی گم ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.