صبح دم رقص کرتے پرندوں کے سر پر تھرکتی ہوا
صبح دم رقص کرتے پرندوں کے سر پر تھرکتی ہوا
رات بھر جلتے بجھتے دئیے کی تھکن ہو گئی لاپتہ
عین ممکن ہے اپنا تصور اسی وقت دم توڑ دے
عین ممکن ہے منہ تاکنے کے لیے مل سکے آئنہ
بلب سے منسلک ہو چکے ہیں سبھی روشنی کے لیے
کس کو ہے آج کل فکر باب سحر بند ہے یا کھلا
ایک شے ڈوبتی تیرتی مجھ کو آواز دیتی رہی
میں کنارے کنارے ندی کے عبث بھاگتا رہ گیا
ہم کہ نظریں جھکائے قدم پر قدم آگے رکھتے رہے
جانے کس یاس میں کچھ نہیں کہہ سکے خیر کہتے بھی کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.