شب فراق یوں وحشت طراز ہوتی گئی
شب فراق یوں وحشت طراز ہوتی گئی
کہ آہ نیم ادا دف نواز ہوتی گئی
ہر اک ڈراؤنے سپنے نے ڈھونڈ لی تعبیر
ہر اک سہانی حقیقت مجاز ہوتی گئی
لہو کے جوش سے ساکت بدن تھرکنے لگے
سروں کی ضرب سے دیوار ساز ہوتی گئی
اکھڑ کے نوچ لیا ناخنوں نے اپنا ہی گوشت
ہر ایک جسم سے جاں بے نیاز ہوتی گئی
دل تباہ کو رسی کے کھیل بھانے لگے
سو اپنی طبع رواں بند باز ہوتی گئی
ہمیں نہ عشق میسر ہوا نہ موت سفیرؔ
بس اضطراب کی رسی دراز ہوتی گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.