صحرائے جاں میں صورت ریگ پریدہ ہوں
صحرائے جاں میں صورت ریگ پریدہ ہوں
اک مستقل سراب ہوں سو آب دیدہ ہوں
اب اس کا کیا علاج کہ تیری وفا کا ابر
برسا ہے ٹوٹ ٹوٹ کے پھر بھی تپیدہ ہوں
آؤں تو کیسے آؤں خود اپنی طرف کہ میں
تیرے پیام نو کی طرح نا رسیدہ ہوں
دل سنگ ہے کہ کوہ ندا عشق ہے ترا
غم سبزہ زار ہے کہ میں خاک نمیدہ ہوں
تیرے بدن کا زہر بھی رگ رگ میں ہے رواں
میں اپنے خوف و خوں کا بھی لذت چشیدہ ہوں
صدیاں تھیں میری جان شبیں تیرے ہجر کی
اس اعتبار سے میں بہت برگزیدہ ہوں
ہر بزم و انجمن میں ہے شہرہ مرا نظرؔ
نغمہ ہوں جس کا اس کے لیے ناشنیدہ ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.