گزر رہا ہوں تری رہ گزر سے پہلی بار
گزر رہا ہوں تری رہ گزر سے پہلی بار
میں تھک نہ جاؤں مسلسل سفر سے پہلی بار
نہ شاخ گل پہ کوئی ہوگا آشیاں محفوظ
خبر ملی ہے یہ برق و شرر سے پہلی بار
زمیں پہ ٹوٹ کے بکھرا ہوا ہے میرا وجود
میں گر گیا ہوں کسی کی نظر سے پہلی بار
وہ ایک روز کنارے پہ ڈوب جائے گا
جو بچ گیا ہے شناور بھنور سے پہلی بار
جواب دینے میں ڈھل جائے نہ یہ عمر تمام
جو اک سوال ہوا ہے ادھر سے پہلی بار
یہی دعا ہے خدا ان کو کامیابی دے
جو جنگ جیتنے نکلے ہیں گھر سے پہلی بار
کئی دنوں سے طبیعت ہے پر سکوں مضطرؔ
اتر گیا ہے کوئی بوجھ سر سے پہلی بار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.