Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

فکر کے زہراب میں رس گھولیے تاثیر کا

خالد احمد

فکر کے زہراب میں رس گھولیے تاثیر کا

خالد احمد

MORE BYخالد احمد

    فکر کے زہراب میں رس گھولیے تاثیر کا

    درد کب محتاج ہوتا ہے کسی تفسیر کا

    خاک سے افلاک تک محدود آزادی ملی

    پاؤں میں حلقہ رہا امکان کی زنجیر کا

    آخر شب خواب کا گلشن سنہرا ہو گیا

    صبح کی ڈالی پہ غنچہ کھل گیا تعبیر کا

    سات رنگوں میں بکھر کر رہ گیا ایک ایک نقش

    ڈھل رہا تھا ذہن میں خاکہ تری تصویر کا

    روح کیا تعمیر ہوگی جسم کی تخریب سے

    سنگ کج رکھا ہے تو نے شہر کی تعمیر کا

    فاصلوں کی گرد بکھری منزلوں کی راہ میں

    سر میں رہ جائے نہ سودا دہر کی تسخیر کا

    پیکر دانائی بھی نخچیر نادانی رہا

    لوگ کہتے ہیں کہ غالبؔ معتقد تھا میرؔ کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے