ایسا ہونے پہ دکھ ہو رہا ہے
ایسا ہونے پہ دکھ ہو رہا ہے
اس کا ہونے پہ دکھ ہو رہا ہے
بیل سوکھے گی مجھ سے لپٹ کر
رشتہ ہونے پہ دکھ ہو رہا ہے
اب کہاں لطف تیمار داری
اچھا ہونے پہ دکھ ہو رہا ہے
یاد آؤں گا منزل پہ کس کو
رستہ ہونے پہ دکھ ہو رہا ہے
کیسے کاٹے گا کوہ غم زیست
بیٹا ہونے پہ دکھ ہو رہا ہے
کیسی دنیا میں پیدا ہوا ہوں
پیدا ہونے پہ دکھ ہو رہا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.