اس نے اندازۂ وحشت کا تہیہ کر کے
اس نے اندازۂ وحشت کا تہیہ کر کے
ہم کو میدان بھی بخشا تو یہ دنیا دی ہے
اس کی پلکوں سے بھی دو آبہ بہا کرتا ہے
میری آنکھوں کے سمندر نے صدا کیا دی ہے
ہم بھی قائل نہ تھے تقدیر کے تم سے پہلے
اب کھلا ہم پہ کہ کتنی ہمیں آزادی ہے
اب ترے نام کی تہمت سے بہت دور ہیں ہم
تو نے کیسی یہ سزا جان تمنا دی ہے
وہ مرے پاؤں میں زنجیر کہاں تک ڈالے
تا بہ زنجیر بھی کیا کم ہمیں آزادی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.