پھر دریچوں پہ ہے بجھتی ہوئی ساعت کا سکوت
پھر دریچوں پہ ہے بجھتی ہوئی ساعت کا سکوت
رات کے جسم میں پھیلا ہوا حسرت کا سکوت
ریت کی تہہ میں کئی نیلگوں دریا تھے مگر
پی گیا سب کو کسی گم شدہ حیرت کا سکوت
دور تک پھیل گئے زرد دھوئیں کے جنگل
اوڑھ کر بیٹھ گئی شاخ محبت کا سکوت
چاندنی اوڑھ کے بیٹھی رہی اک ویراں جھیل
لہر کے ہونٹ پہ ٹھہرا ہوا وحشت کا سکوت
اک پرندہ نہ افق پار سے لوٹا برسوں
گھر کے آنگن میں اتر آیا مسافت کا سکوت
پیڑ کی چھال میں محفوظ تھیں کتنی صدیاں
پڑھ رہی ہوں کسی گم گشتہ روایت کا سکوت
تیرگی جسم کے اندر بھی اتر آتی ہے
جب کہیں ٹوٹنے لگتا ہے رفاقت کا سکوت
سرخ پھولوں کی مہک دھوپ کی زریں لہریں
سب پہ طاری ہے کسی خواب کی رحلت کا سکوت
اپنے اندر کے سمندر سے نکل کر دیکھو
کس قدر گہرا ہے بے نام حقیقت کا سکوت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.