Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پھر دریچوں پہ ہے بجھتی ہوئی ساعت کا سکوت

مہناز انجم

پھر دریچوں پہ ہے بجھتی ہوئی ساعت کا سکوت

مہناز انجم

MORE BYمہناز انجم

    پھر دریچوں پہ ہے بجھتی ہوئی ساعت کا سکوت

    رات کے جسم میں پھیلا ہوا حسرت کا سکوت

    ریت کی تہہ میں کئی نیلگوں دریا تھے مگر

    پی گیا سب کو کسی گم شدہ حیرت کا سکوت

    دور تک پھیل گئے زرد دھوئیں کے جنگل

    اوڑھ کر بیٹھ گئی شاخ محبت کا سکوت

    چاندنی اوڑھ کے بیٹھی رہی اک ویراں جھیل

    لہر کے ہونٹ پہ ٹھہرا ہوا وحشت کا سکوت

    اک پرندہ نہ افق پار سے لوٹا برسوں

    گھر کے آنگن میں اتر آیا مسافت کا سکوت

    پیڑ کی چھال میں محفوظ تھیں کتنی صدیاں

    پڑھ رہی ہوں کسی گم گشتہ روایت کا سکوت

    تیرگی جسم کے اندر بھی اتر آتی ہے

    جب کہیں ٹوٹنے لگتا ہے رفاقت کا سکوت

    سرخ پھولوں کی مہک دھوپ کی زریں لہریں

    سب پہ طاری ہے کسی خواب کی رحلت کا سکوت

    اپنے اندر کے سمندر سے نکل کر دیکھو

    کس قدر گہرا ہے بے نام حقیقت کا سکوت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے