مخالف اپنے جیسا چاہیئے تھا
مخالف اپنے جیسا چاہیئے تھا
کمینے کو کمینہ چاہیئے تھا
فقط ہم اس لئے پیاسے ہیں اب تک
ہمیں سارا ہی دریا چاہیئے تھا
مکمل ہو رہے تھے خواب سارے
تمہیں بھی لوٹ آنا چاہیئے تھا
کھلونے کی بہت قیمت ہے لیکن
تمہیں مٹکا بنانا چاہیئے تھا
مری وحشت کا عالم کچھ نہ پوچھو
اسے دریا میں صحرا چاہیئے تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.