Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مجھ میں جو بھی ہے خرابی اسی تحریر سے ہے

اظہر سجاد

مجھ میں جو بھی ہے خرابی اسی تحریر سے ہے

اظہر سجاد

MORE BYاظہر سجاد

    مجھ میں جو بھی ہے خرابی اسی تحریر سے ہے

    اس دفعہ جنگ مری کاتب تقدیر سے ہے

    جون سے ہوتے ہوئے آئی ہے ہم تک وحشت

    سلسلہ جس کا رواں میر تقی میر سے ہے

    اب جو آزاد کیا جاؤں تو مر جاؤں گا

    مجھ میں جو جان ہے باقی اسی زنجیر سے ہے

    خواب کا کیا ہے یہ آئیں گے بکھر جائیں گے

    مجھ کو مطلب تو فقط خواب کی تعبیر سے ہے

    ہر گھڑی دنیا سے بیزار نظر آتے ہیں

    ہو نہ ہو آپ کی نسبت تو کسی پیر سے ہے

    خوش ہوں ملنے تو چلے آئے وہ مجھ سے لیکن

    مسئلہ مجھ کو مگر آج بھی تاخیر سے ہے

    ویسا رشتہ ہے غزل سے مرا اظہر ؔسجاد

    جیسا رشتہ کسی معمار کا تعمیر سے ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے