مجھ میں جو بھی ہے خرابی اسی تحریر سے ہے
مجھ میں جو بھی ہے خرابی اسی تحریر سے ہے
اس دفعہ جنگ مری کاتب تقدیر سے ہے
جون سے ہوتے ہوئے آئی ہے ہم تک وحشت
سلسلہ جس کا رواں میر تقی میر سے ہے
اب جو آزاد کیا جاؤں تو مر جاؤں گا
مجھ میں جو جان ہے باقی اسی زنجیر سے ہے
خواب کا کیا ہے یہ آئیں گے بکھر جائیں گے
مجھ کو مطلب تو فقط خواب کی تعبیر سے ہے
ہر گھڑی دنیا سے بیزار نظر آتے ہیں
ہو نہ ہو آپ کی نسبت تو کسی پیر سے ہے
خوش ہوں ملنے تو چلے آئے وہ مجھ سے لیکن
مسئلہ مجھ کو مگر آج بھی تاخیر سے ہے
ویسا رشتہ ہے غزل سے مرا اظہر ؔسجاد
جیسا رشتہ کسی معمار کا تعمیر سے ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.