Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں نے اٹھ کر عجب تماشا دیکھا آدھی رات کو

ساقی فاروقی

میں نے اٹھ کر عجب تماشا دیکھا آدھی رات کو

ساقی فاروقی

MORE BYساقی فاروقی

    میں نے اٹھ کر عجب تماشا دیکھا آدھی رات کو

    روح کو اندھی روح بلائے ہاتھ پکارے ہات کو

    جانے کیا ہونے والا ہے نیند نہ آئے خوف سے

    رات ڈرائے شہر ڈرائے ایک اکیلی ذات کو

    اس نے ٹیلیفون کیا ہے اور کسی کے ساتھ ہے

    میرا اس کا سمجھوتا ہے کون بڑھائے بات کو

    میں جس کے پیچھے بھاگا ہوں کیسی پاگل خوشبو ہے

    جاں ترے دامن کو ترسے دل روئے تیرے سات کو

    وہ میرے گھر کا دروازہ جیسے زنداں کھلتا ہے

    میں اپنے گھر لوٹ رہا ہوں دستک دو حالات کو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے