میں نے اٹھ کر عجب تماشا دیکھا آدھی رات کو
میں نے اٹھ کر عجب تماشا دیکھا آدھی رات کو
روح کو اندھی روح بلائے ہاتھ پکارے ہات کو
جانے کیا ہونے والا ہے نیند نہ آئے خوف سے
رات ڈرائے شہر ڈرائے ایک اکیلی ذات کو
اس نے ٹیلیفون کیا ہے اور کسی کے ساتھ ہے
میرا اس کا سمجھوتا ہے کون بڑھائے بات کو
میں جس کے پیچھے بھاگا ہوں کیسی پاگل خوشبو ہے
جاں ترے دامن کو ترسے دل روئے تیرے سات کو
وہ میرے گھر کا دروازہ جیسے زنداں کھلتا ہے
میں اپنے گھر لوٹ رہا ہوں دستک دو حالات کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.