سوچو تو یار اس نے بھی کیا کیا نہیں کیا
سوچو تو یار اس نے بھی کیا کیا نہیں کیا
پر میں نے اس کے ساتھ تماشہ نہیں کیا
اس نے روایتوں کی تو یوں قدر کی بہت
پر اس نے عاشقی کا تقاضا نہیں کیا
منزل تو سامنے تھی کہ اٹھنے کی دیر تھی
پھر یوں ہوا کہ ہم نے ارادہ نہیں کیا
وعدہ کیا تھا اس سے کہ چاہیں گے عمر بھر
جیتے رہیں گے ایسا تو وعدہ نہیں کیا
ہم تو رہے ہیں عشق میں نقصان میں بہت
کہ اپنی خواہشوں کا تقاضا نہیں کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.