میں جس سے دل لگانا چاہتا تھا
میں جس سے دل لگانا چاہتا تھا
وہ مجھ کو بس رلانا چاہتا تھا
یہ اس کی بھول تھی کچھ اور سمجھا
میں اس کے غم اٹھانا چاہتا تھا
بشر حیوان بن کر رہ گیا ہے
خدا انساں بنانا چاہتا تھا
وہ چہرے پر نیا چہرہ لگا کر
مجھے پھر سے لبھانا چاہتا تھا
بھروسہ کر لیا تھا میں نے جس پر
وہ مجھ کو آزمانا چاہتا تھا
مرا جیسے ہی آیا وقت اچھا
وہ پھر سے لوٹ آنا چاہتا تھا
نہیں بھوکا تھا تیرے جسم کا میں
ترے دل میں ٹھکانا چاہتا تھا
تیرے دل کی ہر اک دھڑکن کی خاطر
میں سانسیں ہار جانا چاہتا تھا
کسی بھی کام کا چھوڑا نہ اس نے
میں جس کے کام آنا چاہتا تھا
کسی نے بھر دیے آنکھوں میں آنسو
کبیرہ مسکرانا چاہتا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.