کیوں شمع بجھ کے رہ گئی کیسی ہوا لگی
کیوں شمع بجھ کے رہ گئی کیسی ہوا لگی
اے اہل بزم کوئی تو بولو خدا لگی
دنیائے دوں سے بھاگ کے ہم میکدے گئے
اب کیوں ہمارے ساتھ ہے یہ بے حیا لگی
وہ لوگ اب کہاں ہیں وہ چہرے کدھر گئے
اے شہر حسن کس کی تجھے بد دعا لگی
ہم کیوں نہ اپنے آپ پہ نازاں ہوں صاحبو
ہم پر ہی کیوں یہ تہمت مہر و وفا لگی
سائے سے کچھ قریب سے ہو کر گزر گئے
پچھلے پہر کو آنکھ ابھی تھی ذرا لگی
کیا اب ادھر نہ آئیں گے خوشبو کے قافلے
تجھ کو خبر کہاں سے یہ باد صبا لگی
ہم جل کے خاک ہو گئے یہ اور بات ہے
کچھ ان کے دل میں آگ تھی ہم سے سوا لگی
کچھ دن رہے تھے زلف پریشاں کی قید میں
پھر اپنے ساتھ اور نہ کوئی بلا لگی
ہم تشنہ لب تو تیرے دعا گو ہیں پھر بتا
ہے کون جس کی تجھ کو نظر ساقیا لگی
بس اک حسین کا نہیں ملتا کہیں سراغ
یوں ہر گلی یہاں کی ہمیں کربلا لگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.