ہر کسی پر یقیں نہیں ہوتا
ہر کسی پر یقیں نہیں ہوتا
ہر کوئی بھی امیں نہیں ہوتا
چہرہ اک آدھ کوئی ہوتا ہے
شہر سارا حسیں نہیں ہوتا
تیرے ورثے میں بیٹی کا بھی حق
بیٹا ہی صرف اک نہیں ہوتا
مانا ہوتی ہے پاس اک دنیا
دل کے ہر اک قریں نہیں ہوتا
خاندانی بھی لوگ ہوتے ہیں
ہر کوئی بھی کمیں نہیں ہوتا
غم کو ہنس کے ہی سہنا پڑتا ہے
کون عاصمؔ حزیں نہیں ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.