ایک مدت وعدۂ فردا پہ ٹہلایا گیا
ایک مدت وعدۂ فردا پہ ٹہلایا گیا
اور پھر اشک ندامت ہی سے نہلایا گیا
آج پھر مایوس ہو کر مضمحل تھا دل بہت
آج پھر اس دل کو امیدوں سے بہلایا گیا
پہلے انگشت حنائی سے تر و تازہ کیا
پھر ہمارے زخم دل کو خوب سہلایا گیا
ورنہ میری ذات پر کس کو مجال طنز تھی
مہربانی آپ کی میں جو بھی کہلایا گیا
پہلے بھی ان کے عطا کردہ تحائف کم نہ تھے
پھر نوید ہجر دے کر دل کو دہلایا گیا
مفلس و نادار سارے شاد ہیں اظہرؔ مگر
اہل ثروت کا کسی سے دل نہ بہلایا گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.