وہ جس کا ڈر تھا کہ ہوگا گذشتہ شام ہوا
وہ جس کا ڈر تھا کہ ہوگا گذشتہ شام ہوا
اچانک ایک تعلق کا اختتام ہوا
اداسی اوڑھنا ہم نے سکھایا دنیا کو
ہماری وجہ سے کالا لباس عام ہوا
اس آدمی سے ملے تھے جو درد بانٹتا ہے
ہمارا نام لیا تھا تمہارا کام ہوا
غریب باپ کا ترکہ تھا حسرتوں کا خلا
جو دو تہائی وراثت میں میرے نام ہوا
وہ ایک شخص غلامی کو کر گیا ممنون
پھر اک زمانہ اسی شخص کا غلام ہوا
پتہ چلا کہ کئی مستقل مقیم بھی ہیں
جب اس کے دل میں مرا عارضی قیام ہوا
مریض بچ نہ سکا خیر جو خدا کی رضا
وہ اسپتال کے خرچے کا انتظام ہوا
کسی سے جڑ کے کسی کا غرور توڑا عمیرؔ
خدا کو شرک دکھایا تو جا کے رام ہوا
Aakhiri Tasveer
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.