ہندوستان کی تہذیبی اور مذہبی تاریخ میں شری رام چندر جی اور ان کی حیات پر مبنی عظیم رزمیہ 'رامائن' کو ایک اساسی حیثیت حاصل ہے۔ تاہم، تاریخی اور تحقیقی نقطہ نظر سے شری رام کا عہد اور رامائن کی تصنیف کا زمانہ ہمیشہ سے محققین کے درمیان بحث کا موضوع رہا ہے۔ مختلف دانشوروں، مورخین اور ماہرینِ لسانیات نے اپنے اپنے علم اور شواہد کی بنیاد پر اس کے زمانی تعین کی کوشش کی ہے۔
شری رام چندر جی کی پیدائش کے حوالے سے مغربی اور مشرقی مفکرین کی آراء میں خاصا تنوع پایا جاتا ہے۔ سر ولیم جونس جیسے انگریز دانشور نے شری رام کی پیدائش کا زمانہ 2029 قبل مسیح تسلیم کیا ہے، جبکہ کرنل ٹاڈ اسے 1100 قبل مسیح مانتے ہیں۔ دوسری جانب، ہندوستانی محققین پرانوں اور دیگر قدیم صحائف کی بنیاد پر مختلف نتائج پر پہنچتے ہیں۔ سی۔ وی۔ ویدیہ کے مطابق مہابھارت کی جنگ 3101 قبل مسیح میں ہوئی، جس کی بنیاد پر رام کا عہد 3800 سے 4000 قبل مسیح کے درمیان قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان تمام مباحث کا نچوڑ یہ نکلتا ہے کہ شری رام چندر جی کا ظہور تقریباً 3800 قبل مسیح کے آس پاس ہوا ہوگا۔
جہاں تک رامائن کی تصنیف کا تعلق ہے، فادر کامل بلکے، جو رام کتھا کے ایک مستند محقق مانے جاتے ہیں، کا خیال ہے کہ بالمیکی نے تقریباً 300 قبل مسیح میں اس عظیم کتاب کی تخلیق کی۔ اس ضمن میں ایک اہم دلیل مہابھارت اور رامائن کا تقابلی مطالعہ ہے۔ مہابھارت کے 'بن پرب' میں 'راموپاکھیان' کا ذکر ملتا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہابھارت کے دور میں رامائن کی کہانی ایک قدیم روایت بن چکی تھی۔ اس کے برعکس، بالمیکی رامائن میں مہابھارت کے کسی واقعے یا کردار کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ رامائن مہابھارت سے صدیوں قبل وجود میں آ چکی تھی۔
علاوہ ازیں، بدھ مت کی 'دشرتھ جاتک' کہانیوں میں بھی رامائن کے اثرات ملتے ہیں، جو 500 قبل مسیح کے دور کی ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گوتم بدھ کے زمانے میں بھی رام کتھا عوامی سطح پر اس قدر مقبول تھی کہ اسے مختلف شکلوں میں بیان کیا جاتا تھا۔ رامائن محض ایک تاریخی دستاویز نہیں بلکہ ایک ایسا مہابیانیہ (Metanarrative) ہے جس نے ہندوستان کی اجتماعی، تہذیبی اور مذہبی روح کو تشکیل دیا ہے۔
رام کی اسی تاریخی، تہذیبی اور روحانی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے، اردو کے عظیم مفکر اور شاعر علامہ اقبال نے انھیں 'امامِ ہند' کے لقب سے یاد کیا ہے۔ اقبال کے نزدیک رام کا وجود ہندوستان کے لیے باعثِ فخر ہے اور ان کی تعلیمات حقیقت اور روحانیت کا سرچشمہ ہیں۔ اقبال فرماتے ہیں:
لب ریز ہے شرابِ حقیقت سے جامِ ہند
سب فلسفی ہیں خطّۂ مغرب کے رام ہند
یہ ہندیوں کے فکرِ فلک رس کا ہے اثر
رفعت میں آسماں سے بھی اونچا ہے بامِ ہند
اعجاز اُس چراغِ ہدایت کا ہے یہی
روشن تر از سحر ہے زمانے میں شامِ ہند
ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز
اہلِ نظر سمجھتے ہیں اس کو امامِ ہند
یہ اشعار اس بات کا ثبوت ہیں کہ رامائن اور شری رام کا وجود کسی ایک مخصوص عہد یا مذہب تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہندوستان کی آفاقی اور ابدی پہچان کا ایک روشن استعارہ ہیں۔
