وہ دیکھتا ہے یہی سوچ کر نماز پڑھی
وہ دیکھتا ہے یہی سوچ کر نماز پڑھی
ہمیشہ عشق کے زیر اثر نماز پڑھی
سمے سے قبل جنوں کے بغیر عشق کیا
اذاں سنی نہ وضو تھا مگر نماز پڑھی
میں زندگی کو مسلسل سفر سمجھتا ہوں
سو جب نماز پڑھی مختصر نماز پڑھی
پھر اس سے جوڑ لیا ربط جس سے توڑا تھا
غلط پڑھی تھی سو بار دگر نماز پڑھی
قریب تھی کوئی مسجد نہ پاس جائے نماز
بچھا کے سایہ سر رہ گزر نماز پڑھی
سنا ہے پہلے یہاں آب دستیاب نہ تھا
پھر اک فقیر نے آ کر ادھر نماز پڑھی
نمازیوں کو رعایت ہے تیز بارش میں
سو جب بھی گریہ کیا میں نے گھر نماز پڑھی
کہے گا پہلی نمازیں نمازیں تھیں ہی نہیں
تمھارے ساتھ کسی نے اگر نماز پڑھی
میں پانچ وقت اذانوں پہ سوچتا ہوں اسے
کبھی قضا نہ ہوئی وقت پر نماز پڑھی
ہمارے سجدے کبھی بے نشاں نہیں ہوتے
زمیں بتائے گی ہم نے کدھر نماز پڑھی
اک ایسی ذات بھی ہے جو کبھی نہیں سوتی
یہ سن کے سو نہ سکا رات بھر نماز پڑھی
Aakhiri Tasveer
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.