صد شکر درد ہجر کو اتنا تو کم کیا
صد شکر درد ہجر کو اتنا تو کم کیا
اس نے مرے وجود پہ آنکھوں سے دم کیا
دل یوں ملے کہ پیار کا اک باب کھل گیا
دھڑکن سے اس نے قرب کا لمحہ رقم کیا
سانسیں ملی ہیں بیچ میں کچھ فاصلہ نہیں
کچھ اس طرح سے اس نے دلوں کو بہم کیا
اس نے رکھی جو لاج مرے اعتبار کی
میں نے بھی اس کے پیار کو اپنا بھرم کیا
اس نے دکھا دیا ہے محبت کا راستہ
میں نے بھی اس کا راستہ نقش قدم کیا
سانسوں میں بس گئی ہے محبت بھری غزل
اتنے حسین لہجے میں چاہت نے رم کیا
عنبرؔ جبیں پہ پھول سا بوسہ ملا مجھے
میں نے بھی اس کے پیار میں پلکوں کو خم کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.