منزل وصل ملے گی نہ سفر جائے گا
منزل وصل ملے گی نہ سفر جائے گا
ہجر ہی ہجر ہے یہ عشق جدھر جائے گا
چند درویش محبت کی دعا دیں گے مجھے
میں بھی جی اٹھوں گا اور وقت گزر جائے گا
یہ جو تاریکیٔ غم ہے یہ ذرا دیر کی ہے
دل اسے ڈھونڈنے یوں تا بہ سحر جائے گا
کچے برتن کو پکایا نہیں کوزہ گر نے
بارش درد جو برسی تو بکھر جائے گا
حاکم کذب کا اعلان ہے گلیوں گلیوں
سچ کا جھنڈا جو اٹھائے گا وہ مر جائے گا
مجھ سا مزدور کہاں چھٹی کیا کرتا ہے
ٹوٹتا جسم لیے شام کو گھر جائے گا
چارہ سازوں نے صلیبوں سے پکارا ہے بشرؔ
جرم جس کا بھی ہے وہ میرے ہی سر جائے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.