کہیں آبشار شراب کے کہیں سرخ فرش گلال کے
کہیں آبشار شراب کے کہیں سرخ فرش گلال کے
کہیں خوشبوئیں ہیں بخور کی کہیں گل کھلے ہیں کمال کے
یہ مقام عشق کا ہے جہاں سبھی آرزوئیں تمام ہیں
نہ خلش ہے اب کوئی ہجر کی نہ تو خواب ہی ہیں وصال کے
تجھے کیا خبر کہ میں کس قدر تری سادگی کی اسیر ہوں
مری شاعری میں بیاں ہیں بس ترے قصے حسن و جمال کے
یہ عروج آج ملا ہے جو نہ میں بھول کر بھی بھلا سکی
جو گزر گئے مری ذات پر وہی رات دن تھے زوال کے
میں ہمیشہ ہی رہی راہ میں نہ ملیں کبھی مجھے منزلیں
مرے ہم قدم رہے قافلے تری یاد تیرے خیال کے
یہ چراغ غم کے بجھا بھی دو کہ نشاط صبح ہے آ گئی
نہیں زیب دیں گے تمہیں قمرؔ یہ سیاہ رنگ ملال کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.