جہان عشق میں رسوائیاں تو ہوتی ہیں
جہان عشق میں رسوائیاں تو ہوتی ہیں
دل غریب سے نادانیاں تو ہوتی ہیں
وہ بے وفا ہے تو کیا دیجیے مبارک باد
ہر ایک فن میں کچھ آزادیاں تو ہوتی ہیں
برا نہ مانیے آپ ایک آدھ بوسے پر
وصال رت میں یہ گستاخیاں تو ہوتی ہیں
وہ بدگماں ہے تو سمجھایئے محبت سے
کہ دو دلوں میں غلط فہمیاں تو ہوتی ہیں
یہ بات الگ ہے کہ ہم نے کبھی گلہ نہ کیا
وگرنہ ہجر میں دشواریاں تو ہوتی ہیں
وفا سرشت ہوں شاعر ہوں زندہ دل بھی ہوں
ہر ایک شخص میں کچھ خامیاں تو ہوتی ہیں
وہ روٹھ جائے تو اس کو منائیے کہ سحرؔ
محبتوں میں یہ ناراضیاں تو ہوتی ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.