ہوا یوں کہ رات ڈھلی نہیں مرے بام دل پہ اتر گئی
ہوا یوں کہ رات ڈھلی نہیں مرے بام دل پہ اتر گئی
رخ ماہتاب کی آس میں یوں ہی بیٹھے بیٹھے گزر گئی
ترے بازوؤں پہ ڈھلی ہوئی مرے زیر لب تھی رکی ہوئی
وہ جو خواب خواب سی رات تھی اسے چھو کے یاد گزر گئی
ترے دل کے داغ ترے نہیں یہ مری امانت زیست ہیں
یہ رکی رکی سی ہنسی تری مرے دشت دل میں بکھر گئی
تمہیں مجھ سے کوئی گلہ نہیں مری عادتوں سے خفا نہیں
کبھی ڈانٹنا کبھی روٹھنا وہ ادا تمہاری کدھر گئی
ہے نیا سفر نئی منزلیں مرے یار راہ دکھا مجھے
یہ سیاہ رات کی تیرگی تری اک نظر سے سنور گئی
کبھی بارشوں میں دھلی ہوئی کبھی بادلوں میں گھلی ہوئی
تری چشم تر مری سانس میں کوئی آہ بن کے ٹھہر گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.