بجھ رہی ہے رفتہ رفتہ شمع محفل آخری
بجھ رہی ہے رفتہ رفتہ شمع محفل آخری
ساقیا اب تو پلا دے جام قاتل آخری
مڑ کے دیکھا اس نے میری سمت کچھ اس طور سے
مے کدے کا دے گیا وہ کیف کامل آخری
چشم ساقی میں سمٹ کر رہ گئی ہے ساری مے
پی گیا آنکھوں سے میری اشک حاصل آخری
کر رہا تھا میں مکمل ترک الفت کی دعا
اک نظر سے لے گیا وہ صبر بسمل آخری
وقت آخر لب پہ اظہرؔ کفر تھا طاری مگر
یا الٰہی کہہ کے توڑی میں نے منزل آخری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.