بنام عشق بصد احترام عشق کرو
بنام عشق بصد احترام عشق کرو
تمہیں کرے گا زمانہ سلام عشق کرو
بہ رنگ قیس یا فرہاد کچھ ملے گا نہیں
یہ عشق ہوگا تمہارا غلام عشق کرو
کہ راہ عشق میں شاہی و خسروی کیسی
بناؤ عشق کو اپنا امام عشق کرو
یہ کس بہشت شمائل کی آرزو ہے تمہیں
بہشت جاں سے رہو ہم کلام عشق کرو
شب فراق میں رونا ہے بزدلی دیکھو
ردائے ہجر سی اوڑھو یہ شام عشق کرو
وہ دور اور تھا کچے گھڑے کا دریا کا
محبتوں کو کرو اب تمام عشق کرو
اٹھائے پھرتے ہو چاہت کا روگ آنکھوں پر
جو چاہتے ہو وفا کا دوام عشق کرو
مجاز سے ہی حقیقت میں منتقل ہوگا
الہی عشق کو بخشے مقام عشق کرو
میں حرف و شعر کی حرمت بیان کرتا ہوں
کبھی سنو کہیں میرا کلام عشق کرو
تمھارے ہجر سے خوشبو تمہاری آتی ہے
سنا دو سب کو بشر یہ پیام عشق کرو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.