عاشقی میں احتیاطوں میں الجھ کر رہ گیا
عاشقی میں احتیاطوں میں الجھ کر رہ گیا
میں بھی کیسی کیسی باتوں میں الجھ کر رہ گیا
یاد کی بارش تھی یا رت تھی فراق و وصل کی
دل عجب موسم کی راتوں میں الجھ کر رہ گیا
دل مرا آزاد اور خواہش مری زنجیر پا
میں تمنا کی بساطوں میں الجھ کر رہ گیا
کون ہوگا اب گرفتار خم زلف ایاز
غزنوی تو سومناتوں میں الجھ کر رہ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.