تکبر کا نتیجہ ہے یہ سب جانی نہیں سمجھے
تکبر کا نتیجہ ہے یہ سب جانی نہیں سمجھے
تمہارے گھر میں کیوں پھیلی ہے ویرانی نہیں سمجھے
اسے کہنا پڑا ہم سے سو ہم پر اس لئے لعنت
ہم اس کو دیکھ کر اس کی پریشانی نہیں سمجھے
چمن میں پھول چھوڑو خار تک پیدا نہیں ہوں گے
اگر اب بھی نگہباں کی نگہبانی نہیں سمجھے
ہم اس کی آنکھ کے آنسو کو موتی تو نہیں کہتے
مگر یہ سچ ہے ہم اس کو کبھی پانی نہیں کہتے
یہ رستہ پہلے پروت تھا جہاں اب دوڑتے ہو تم
بڑی مشکل سے آئی ہے یہ آسانی نہیں سمجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.