Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کیا ہے اس شہر پہ بھی راہبروں کا احسان

عبد الحفیظ نعیمی

کیا ہے اس شہر پہ بھی راہبروں کا احسان

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    کیا ہے اس شہر پہ بھی راہبروں کا احسان

    راستے کیوں ہیں ترے شہر کے اتنے ویران

    پیاسا دریا تو ہمیں خاک ڈبوتا لیکن

    لے کے ہم اترے تھے دریا میں خود اپنا طوفاں

    اب جو یہ فاصلے کچھ کم بھی بظاہر کر لیں

    بات پہلی سی تو آنے کا نہیں ہے امکان

    اب تمنا کو مری پوچھنے آئے ہو کہ جب

    خود کشی کر چکے مدت ہوئی سارے ارمان

    رویا کرتا تھا میں ہر اک نئے دکھ پر پہروں

    دوستوں کا مجھے جب تک نہ ہوا تھا عرفان

    اتنے دھندلا دئیے غم نے مرے چہرے کے نقوش

    آئنہ بھی ہے مجھے دیکھ کے اب تو حیران

    چھوڑ دی پار اتر جانے کی خواہش ہم نے

    تھا نہ گرداب تمنا سے مفر کا امکان

    کاغذی پھول کہ مسلی ہوئی کلیاں کچھ ہوں

    ایک مدت سے ہے سونا یہ شکستہ گلدان

    فصل جب بوئی تھی خوابوں کی تو معلوم نہ تھا

    اور ہو جائے گی یہ کشت تمنا ویران

    رات کو صبح بنانا تو تھا دشوار بہت

    ہاں اندھیروں کو سحر کہنا بہت تھا آسان

    کھو گیا بھیڑ میں سایوں کی نعیمیؔ یارو

    کون ڈھونڈے کسے معلوم ہے اس کی پہچان

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے