کیا ہے اس شہر پہ بھی راہبروں کا احسان
کیا ہے اس شہر پہ بھی راہبروں کا احسان
راستے کیوں ہیں ترے شہر کے اتنے ویران
پیاسا دریا تو ہمیں خاک ڈبوتا لیکن
لے کے ہم اترے تھے دریا میں خود اپنا طوفاں
اب جو یہ فاصلے کچھ کم بھی بظاہر کر لیں
بات پہلی سی تو آنے کا نہیں ہے امکان
اب تمنا کو مری پوچھنے آئے ہو کہ جب
خود کشی کر چکے مدت ہوئی سارے ارمان
رویا کرتا تھا میں ہر اک نئے دکھ پر پہروں
دوستوں کا مجھے جب تک نہ ہوا تھا عرفان
اتنے دھندلا دئیے غم نے مرے چہرے کے نقوش
آئنہ بھی ہے مجھے دیکھ کے اب تو حیران
چھوڑ دی پار اتر جانے کی خواہش ہم نے
تھا نہ گرداب تمنا سے مفر کا امکان
کاغذی پھول کہ مسلی ہوئی کلیاں کچھ ہوں
ایک مدت سے ہے سونا یہ شکستہ گلدان
فصل جب بوئی تھی خوابوں کی تو معلوم نہ تھا
اور ہو جائے گی یہ کشت تمنا ویران
رات کو صبح بنانا تو تھا دشوار بہت
ہاں اندھیروں کو سحر کہنا بہت تھا آسان
کھو گیا بھیڑ میں سایوں کی نعیمیؔ یارو
کون ڈھونڈے کسے معلوم ہے اس کی پہچان
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.