غموں کی دھوپ میں سب اڑ گیا غازہ ہمارا
غموں کی دھوپ میں سب اڑ گیا غازہ ہمارا
یہ چہرہ تھا کبھی مثل گل تازہ ہمارا
بہت دن ہو گئے ملنے نہیں آیا ہے کوئی
ترستا ہے کسی دستک کو دروازہ ہمارا
دل ناداں یہ پہلی بار کا قصہ نہیں ہے
ہمیشہ ٹھیک ہی ہوتا ہے اندازہ ہمارا
کوئی کشتی ہو لرزاں جیسے طوفان بلا میں
ہوا کے شور میں تنہا ہے آوازہ ہمارا
عمود ابرارؔ یہ ہم نے کبھی سوچا نہیں تھا
بکھر جائے گا اس رستے میں شیرازہ ہمارا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.