بجھ گئے روزن گھروں کے شہر صحرا ہو گیا
بجھ گئے روزن گھروں کے شہر صحرا ہو گیا
چاند پھر سرما کی اس بستی میں تنہا ہو گیا
چور ہو کر ہر صدا گھاٹی کی تہ میں سو گئی
خواب کوہ مست خو کا اور گہرا ہو گیا
اے درختوں کے نگر کب پھل کھلائے گی ہوا
پتے گنتے ہاتھ ہارے شوق اندھا ہو گیا
حرف معنی سے جدا تھے دل طلب نا آشنا
ہاؤ ہو کا شہر کیوں میرا شناسا ہو گیا
لے یہاں تازہ شکستوں کی لکیریں ثبت کر
تو نے جو اس ہاتھ پر لکھا ہوا تھا ہو گیا
کلیاں کلیاں جس کے اعضا غنچہ غنچہ جس کے ہونٹ
بند راتوں میں کھلا ایسا تماشا ہو گیا
اک ہلورا بھر وہ شاخ سبز میرے ساتھ تھی
پھر مری آنکھوں کے آگے باغ پیلا ہو گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.