Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وحشت کے ساتھ دشت مری جان چاہیے

عرفان صدیقی

وحشت کے ساتھ دشت مری جان چاہیے

عرفان صدیقی

MORE BYعرفان صدیقی

    وحشت کے ساتھ دشت مری جان چاہیے

    اس عیش کے لیے سر و سامان چاہیے

    کچھ عشق کے نصاب میں کمزور ہم بھی ہیں

    کچھ پرچۂ سوال بھی آسان چاہیے

    تجھ کو سپردگی میں سمٹنا بھی ہے ضرور

    سچا ہے کاروبار تو نقصان چاہیے

    اب تک کس انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں لوگ

    امید کے لیے کوئی امکان چاہیے

    ہوگا یہاں نہ دست و گریباں کا فیصلہ

    اس کے لیے تو حشر کا میدان چاہیے

    آخر ہے اعتبار تماشا بھی کوئی چیز

    انسان تھوڑی دیر کو حیران چاہیے

    جاری ہیں پائے شوق کی ایذا رسانیاں

    اب کچھ نہیں تو سیر بیابان چاہیے

    سب شاعراں خریدۂ دربار ہو گئے

    یہ واقعہ تو داخل دیوان چاہیے

    ملک سخن میں یوں نہیں آنے کا انقلاب

    دو چار بار نون کا اعلان چاہیے

    اپنا بھی مدتوں سے ہے رقعہ لگا ہوا

    بلقیس شاعری کو سلیمان چاہیے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    وحشت کے ساتھ دشت مری جان چاہیے نعمان شوق

    Suggested Book
    Hoshiyari Dil-e-Nadan Bahut Karta Hai book cover

    Hoshiyari Dil-e-Nadan Bahut Karta Hai

    Author: Irfan Siddiqi
    Publication: Rekhta Publications (2023)
    Buy This Book

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے