تیرے آنے کی آس سی ہے ابھی
تیرے آنے کی آس سی ہے ابھی
اس لیے سانس چل رہی ہے ابھی
اس لیے پھول جھک کے ملتے ہیں
مجھ میں خوشبو تری بسی ہے ابھی
کھل ہی جائیں گے پھول قربت کے
شاخ جاں تو ہری بھری ہے ابھی
لڑکھڑاؤں نہ میں محبت میں
دل کو یہ رہ نئی نئی ہے ابھی
کچھ نہ کچھ دل کے پاس ہے تیرا
تو نہیں تو تری کمی ہے ابھی
دل پہ اب گھاؤ کیا نیا لینا
پچھلے زخموں میں تازگی ہے ابھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.