لبوں پہ مسکراہٹیں سجا رہا ہے آدمی
لبوں پہ مسکراہٹیں سجا رہا ہے آدمی
کوئی تو زخم ہے جسے چھپا رہا ہے آدمی
پڑے پھوار درد کی تو جل ترنگ بج اٹھیں
بہ چشم نم بھی گیت گنگنا رہا ہے آدمی
کھنچا یہ جس بھی دار پر وہ سنگ میل بن گئی
ازل سے جادۂ بقا دکھا رہا ہے آدمی
جھکی ہوئی کمر سہی غم و الم کے بوجھ سے
بلندیوں کی سمت پھر بھی جا رہا ہے آدمی
نہ حادثوں کی شب کٹی نہ زندگی کی پو پھٹی
گجر امید کا مگر بجا رہا ہے آدمی
زمیں کی وسعتوں کو دیکھ کر بہت قریب سے
خلا میں اب نصیب آزما رہا ہے آدمی
وہاں وہاں سے آندھیوں نے اپنے رخ بدل لیے
جہاں جہاں کوئی دیا جلا رہا ہے آدمی
زمانہ پھر سے آ رہا ہے نفرتوں کی ہار کا
کہ آدمی کو پھر گلے لگا رہا ہے آدمی
تجلیاں بکھیرنے کو دوسروں کے واسطے
قتیلؔ اپنے آپ کو جلا رہا ہے آدمی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.