Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لبوں پہ مسکراہٹیں سجا رہا ہے آدمی

قتیل شفائی

لبوں پہ مسکراہٹیں سجا رہا ہے آدمی

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    لبوں پہ مسکراہٹیں سجا رہا ہے آدمی

    کوئی تو زخم ہے جسے چھپا رہا ہے آدمی

    پڑے پھوار درد کی تو جل ترنگ بج اٹھیں

    بہ چشم نم بھی گیت گنگنا رہا ہے آدمی

    کھنچا یہ جس بھی دار پر وہ سنگ میل بن گئی

    ازل سے جادۂ بقا دکھا رہا ہے آدمی

    جھکی ہوئی کمر سہی غم و الم کے بوجھ سے

    بلندیوں کی سمت پھر بھی جا رہا ہے آدمی

    نہ حادثوں کی شب کٹی نہ زندگی کی پو پھٹی

    گجر امید کا مگر بجا رہا ہے آدمی

    زمیں کی وسعتوں کو دیکھ کر بہت قریب سے

    خلا میں اب نصیب آزما رہا ہے آدمی

    وہاں وہاں سے آندھیوں نے اپنے رخ بدل لیے

    جہاں جہاں کوئی دیا جلا رہا ہے آدمی

    زمانہ پھر سے آ رہا ہے نفرتوں کی ہار کا

    کہ آدمی کو پھر گلے لگا رہا ہے آدمی

    تجلیاں بکھیرنے کو دوسروں کے واسطے

    قتیلؔ اپنے آپ کو جلا رہا ہے آدمی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے