باپ آخر تو باپ ہوتا ہے
باپ آخر تو باپ ہوتا ہے
چھوڑ جائے بلاپ ہوتا ہے
اپنے منہ سے پکارے وہ بیٹا
کتنا میٹھا الاپ ہوتا ہے
اپنے بچوں سے باپ کا مولا
کتنا دلکش ملاپ ہوتا ہے
بال بچوں سے بھول ہو جائے
سامنے سب کے آپ ہوتا ہے
کام کرتا ہے جان و دل سے وہ
تیز جتنا بھی تاپ ہوتا ہے
دل دکھایا ہے باپ کا جس نے
آدمی وہ فلاپ ہوتا ہے
جوتے کپڑوں کا ایک ہی قیصرؔ
باپ بیٹے کا ناپ ہوتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.