پردۂ چشم میں لے کر ترا جلوہ جاؤں
پردۂ چشم میں لے کر ترا جلوہ جاؤں
میں دل ذرہ میں بھی انجمن آرا جاؤں
مجھ پہ کیا جانیے کیا ہو اثر موج بہار
میں کہ صرصر کے بھی جھونکوں سے نکھرتا جاؤں
میں کہ ہوں آئنۂ چین جبین دوراں
سطح دریا کی طرح بنتا بگڑتا جاؤں
کس کو فرصت ہے کہ ہو صیرفیٔ خویش و عدو
ابر رحمت کی طرح سب پہ برستا جاؤں
میں وہ آذر ہوں کہ ترتیب نظر سے اپنی
پتھروں پر تری تصویر بناتا جاؤں
میں اسی سوچ میں اس بزم سے محروم رہا
کوئی ارماں بھی ہو ہمراہ کہ تنہا جاؤں
جوئے کہسار کی مانند ہوں میں بھی شاید
نغمے سنسان چٹانوں کو سناتا جاؤں
دشت حسرت ہو کہ صحرائے تمنا صادقؔ
میں بگولے کی طرح سب سے گزرتا جاؤں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.