Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نام تمہارا لکھتے لکھتے کاغذ پر

مضطر اعظمی

نام تمہارا لکھتے لکھتے کاغذ پر

مضطر اعظمی

MORE BYمضطر اعظمی

    نام تمہارا لکھتے لکھتے کاغذ پر

    بن جاتے ہیں نقش سنہرے کاغذ پر

    منظر منظر عکس تمہارا بکھرا ہے

    تم ہی تم ہو رنگ برنگے کاغذ پر

    دل پر ایسا بوجھ ہے تیری یادوں کا

    جیسے کوئی پتھر رکھ دے کاغذ پر

    اک بوڑھی عورت کا فوٹو دیکھا ہے

    دنیا بھر کا درد سمیٹے کاغذ پر

    کاغذ کاغذ چوم رہا ہوں آنکھوں سے

    لکھے ہیں کچھ پاک صحیفے کاغذ پر

    حائل ہے دیوار جہاں کی راہوں میں

    ملنے کے ہیں لاکھ طریقے کاغذ پر

    دیکھ کے مضطرؔ گھر میں بچے روتے ہیں

    مٹی کے نایاب کھلونے کاغذ پر

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے