اس کے لہجے میں عجب زہر نہاں ہوتا ہے
اس کے لہجے میں عجب زہر نہاں ہوتا ہے
بات کرتا ہے تو ڈسنے کا گماں ہوتا ہے
ایک دو دن کا تماشا ہے یہ دریا فہمی
ڈوبنے والا سر آب رواں ہوتا ہے
اب مرے شہر کی گلیوں کا خدا ہی حافظ
جس جگہ آگ نہیں ہوتی دھواں ہوتا ہے
سر پھرا مجھ سے بھی بڑھ کر ہے یہ آوارہ پن
کون ہوتا ہے جو پوچھے کہ کہاں ہوتا ہے
لاکھ بالوں پہ گرے برف بھلے عمر ڈھلے
جذبے زندہ ہوں تو انسان جواں ہوتا ہے
خود غرض لوگ جہاں رہتے ہوں نحریرؔ میاں
ہم اسے گھر نہیں کہتے وہ مکاں ہوتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.