صحرا کے دل میں بھی ہے سمندر چھپا ہوا
صحرا کے دل میں بھی ہے سمندر چھپا ہوا
پانی بہت ہے ریت کے اندر چھپا ہوا
لب پر ہنسی کا پھول ہے دل میں چراغ غم
ہے قہقہے میں درد کا منظر چھپا ہوا
یاروں کی طرز حوصلہ افزائی دیکھیے
تحسین میں ہے طنز کا پتھر چھپا ہوا
اپنوں کی انجمن میں بھی لازم ہے احتیاط
شاید عدو کا یاں بھی ہو لشکر چھپا ہوا
رہ کر وہ مجھ سے دور بھی میرے قریب ہے
دل میں ہے اس کی یاد کا دفتر چھپا ہوا
اعجازؔ مل رہا ہے وہ کتنے تپاک سے
ہے جس کی آستین میں خنجر چھپا ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.