پارکوں میں شام کو ہر اک سحر پیکر لگا
پارکوں میں شام کو ہر اک سحر پیکر لگا
صبح کو وہ ہی مگر راتوں کا پیغمبر لگا
خون کے چھینٹوں سے آج ان کا بھی دامن تر لگا
اور یہ الزام ان پر گھر کے ہی اندر لگا
کھو نہ جائے تو کہیں پرچھائیوں کی بھیڑ میں
احتیاطاً کوئی تختی نام کی سر پر لگا
میں رکا ہی تھا کہ لے لوں سائے میں دم بھر کو سانس
ایک پتھر دفعتاً سر پر مرے آ کر لگا
گالیوں کی تربیت گہہ صرف بچوں کے لئے
ایک ایسا بورڈ بھی اب باب مسجد پر لگا
دیکھنا ٹوٹے ہوئے دل کی نزاکت کا مزاج
پھول جو اس نے دیا وہ بھی مجھے پتھر لگا
عمر بھر بھٹکا ہوں اتنا حادثوں کے دشت میں
مل گیا جب کوئی رہزن بھی مجھے رہبر لگا
کچھ نہیں اس شہر میں چھوٹے بڑے کا امتیاز
جس لحد پر چاہے اپنے نام کا پتھر لگا
گرد ناکردہ گناہی سے تھا ہر چہرہ اٹا
ہم نے بھی دیکھا وہ میلہ جو سر محشر لگا
اپنا چہرہ دیکھ کر کر لے نہ کوئی خود کشی
یہ سڑک ہے آئنے کو گھر کے ہی اندر لگا
سینے میں پتھر بھی ہو سکتا ہے کیسے جانتے
چھو کے دیکھا تھا تو وہ پھولوں سے نازک تر لگا
میں نے تو دشمن پہ پھینکا تھا بہت چھپ کر مگر
لوٹ کر میرے ہی جانے کیسے وہ پتھر لگا
بعد مدت جب دیار غم سے آئے لوٹ کر
اپنا گھر بھی تو نعیمیؔ دوسرے کا گھر لگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.