Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پارکوں میں شام کو ہر اک سحر پیکر لگا

عبد الحفیظ نعیمی

پارکوں میں شام کو ہر اک سحر پیکر لگا

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    پارکوں میں شام کو ہر اک سحر پیکر لگا

    صبح کو وہ ہی مگر راتوں کا پیغمبر لگا

    خون کے چھینٹوں سے آج ان کا بھی دامن تر لگا

    اور یہ الزام ان پر گھر کے ہی اندر لگا

    کھو نہ جائے تو کہیں پرچھائیوں کی بھیڑ میں

    احتیاطاً کوئی تختی نام کی سر پر لگا

    میں رکا ہی تھا کہ لے لوں سائے میں دم بھر کو سانس

    ایک پتھر دفعتاً سر پر مرے آ کر لگا

    گالیوں کی تربیت گہہ صرف بچوں کے لئے

    ایک ایسا بورڈ بھی اب باب مسجد پر لگا

    دیکھنا ٹوٹے ہوئے دل کی نزاکت کا مزاج

    پھول جو اس نے دیا وہ بھی مجھے پتھر لگا

    عمر بھر بھٹکا ہوں اتنا حادثوں کے دشت میں

    مل گیا جب کوئی رہزن بھی مجھے رہبر لگا

    کچھ نہیں اس شہر میں چھوٹے بڑے کا امتیاز

    جس لحد پر چاہے اپنے نام کا پتھر لگا

    گرد ناکردہ گناہی سے تھا ہر چہرہ اٹا

    ہم نے بھی دیکھا وہ میلہ جو سر محشر لگا

    اپنا چہرہ دیکھ کر کر لے نہ کوئی خود کشی

    یہ سڑک ہے آئنے کو گھر کے ہی اندر لگا

    سینے میں پتھر بھی ہو سکتا ہے کیسے جانتے

    چھو کے دیکھا تھا تو وہ پھولوں سے نازک تر لگا

    میں نے تو دشمن پہ پھینکا تھا بہت چھپ کر مگر

    لوٹ کر میرے ہی جانے کیسے وہ پتھر لگا

    بعد مدت جب دیار غم سے آئے لوٹ کر

    اپنا گھر بھی تو نعیمیؔ دوسرے کا گھر لگا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے